بنگلورو۔22/دسمبر(ایس او نیوز) ریاست کے بیشتر علاقے خشک سالی سے بدحال ہیں ان علاقوں میں متاثرین کی راحت کاری میں کسی بھی طرح کی لاپرواہی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی۔ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے کے بارے میں اگر وہاں کے لوگوں کو کسی طرح کی دشواری پیش آئی تو اس کیلئے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ضلع پنچایت سی ای او کو راست طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ۔یہ تنبیہہ آج وزیراعلیٰ سدرامیا نے کی۔ ضلع پنچایتوں کے سی ای اوز اور ڈپٹی کمشنروں سے مخاطب ہوکر سدرامیا نے کہاکہ ریاست میں خشک سالی کی وجہ سے رعیت طبقہ کنگال ہوچکا ہے۔فصلوں کو نقصان پینے کے پانی کی قلت وغیرہ کے مسائل سنگین شکل اختیار کرچکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے تمام اضلاع کے افسران سے اس موقع پر ضلعی سطح پر کی گئی راحت کاری کی کارروائیوں کی تفصیلات حاصل کی۔ بیجاپور میں انہوں نے کہاکہ خشک سالی سے نمٹنے کیلئے راحت کاری کے کاموں کو تیزی سے جاری رکھنے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ضلعی سطح پر اگر فنڈز کی کمی محسوس کی جارہی ہے تو فوری طور پر اسے حکومت کے علم میں لایا جائے تاکہ مناسب گرانٹ جاری کیا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے ہر اسمبلی حلقہ کو 60لاکھ روپے مہیا کرائے گئے ہیں، اس گرانٹ کو مناسب طریقے سے استعمال کرنا چاہئے۔ جن علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے وہاں ٹینکر کے ذریعہ پانی فراہم کرنے کیلئے اس فنڈ کا استعمال کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پینے کے پانی کے علاوہ جانوروں کیلئے چارہ اور مزدوروں کو روزگار مہیا کرانے کے کاموں پر ضلعی انتظامیہ فوری توجہ دے۔ انہوں نے کہاکہ خشک سالی کے سبب کسان کم قیمتوں پر اپنے مویشیوں کو فروخت کرنے اور روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال کو آگے بڑھنے نہ دیا جائے۔اس تنبیہہ کے باوجود اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سرکاری افسران کو بخشا نہیں جائے گا۔وزیراعلیٰ نے آبپاشی کیلئے کسانوں کے پمپ سیٹوں کو بروقت بجلی کی فراہمی پر زور دیا اور کہاکہ ہر متبادل دن کسانوں کے پمپ سیٹوں کو بجلی مہیا کرانے کا انتظام مہاراشٹرا میں رائج ہے اسی طرز پر کرناٹک میں بھی تجرباتی طور پر بیجاپور کے انڈی تعلق میں بجلی کی ترسیل تجربہ آزمایا جارہاہے۔ اگر یہ کامیا ب رہا تو ریاست گیر پیمانے پر یہی طریقہئ کار اپنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ روزگار ضمانت اسکیم کو رام نگرم ضلع میں کامیابی سے نافذ کیا گیا ہے۔ اسی طرز پر ریاست کے دیگر اضلاع خاص طور پر بیجاپور میں لاگو کرنے پر وزیر اعلیٰ نے زور دیا اور سرکاری افسران کو ہدایت دی کہ رام نگرم کے طریقہئ کار کا بغور جائزہ لیں۔ سدرامیا نے مانا کہ سنگین خشک سالی کے سبب فصلوں کو کافی زیادہ نقصان پہنچا ہے۔اس کیلئے کچھ حد تک سرکاری انتظامیہ بھی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ بارش کی قلت کے متعلق کسانوں کو بروقت اگر اطلاع ہوتی تو شاید انہیں اتنا خسارہ جھیلنا نہیں پڑتا جو آج ہورہا ہے۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے ہمراہ ضلع انچارج وزیر ایم بی پاٹل، ضلع کے اراکین اسمبلی اور دیگر اعلیٰ عہدیداران موجود تھے۔میٹنگ سے قبل وزیر اعلیٰ نے مقامی کاشتکاروں کی شکایات سنیں اور ان سے عرضداشتیں وصول کیں۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ سدرامیا کی بیجاپور آمد کے ساتھ ہی انہیں کچھ دیر کیلئے کسانوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کسانوں نے شکایت کی کہ سرکاری گیسٹ ہاؤز میں ان سے ملاقات کیلئے گھنٹوں انتظار کروایا گیا۔ اس پر برہم کسانوں نے بیجاپور اتھنی روڈ پر راستہ روکو احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران پولیس اور کسانوں کے درمیان لفظی جھڑپ بھی ہوگئی تاکہ کسانوں کو بعد میں پولیس حکام نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کرانے کا یقین دلایا۔ اور کسانوں نے اپنا احتجاج واپس لے لیا۔